فلسفۂ جبر

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - انسان کو یکسر بے اختیار سمجھنے کا نظریہ، انسان کو مجبورِ محض جاننے کا زوایۂ نظر (فلسفہ اختیار کی ضد)۔ "ایک غم زدہ انسان تھے اس لیے انہوں نے فلسفۂ جبر کو تسلیم کیا۔"      ( مزاج و ماحول، ٢١٩ )

اشتقاق

انگریزی سے اسم فَلْسَفَہ کو ہمزہ اضافت کے ذریعے عربی سے مشتق اسم جبر کے ساتھ ملانے سے مرکب اضافی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ "مزاج و ماحول" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انسان کو یکسر بے اختیار سمجھنے کا نظریہ، انسان کو مجبورِ محض جاننے کا زوایۂ نظر (فلسفہ اختیار کی ضد)۔ "ایک غم زدہ انسان تھے اس لیے انہوں نے فلسفۂ جبر کو تسلیم کیا۔"      ( مزاج و ماحول، ٢١٩ )

جنس: مذکر